• Listen Us Live Now

  • Home / Uncategorized / Lahore Kay Rung

    Lahore Kay Rung

    نیل اور جینز کی کہانی
    _________________________________

    دوستو! ایک وقت تھا لاہور کا رنگ “نیل” پوری دنیا میں مشہور ہوا کرتا تھا۔ “نیل” دنیا میں کہیں بھی جاتا تو لوگ اس رنگ کو نیل نہیں کہتے تھے بلکہ لاہوری کہتے تھے۔ اور آپ کو شائد یہ جان کر بھی حیرت ہو کہ جینز کے کپڑے پر جو نیلا رنگ ہوتا تھا وہ بھی لاہوری نیل ہی کا کرشمہ تھا۔ مغلوں کے دور میں اگر لاہور کا نیل نہ ہوتا تو شاید جینز نہ بنتی اور اگر بنتی تو یہ کم از کم نیلی نہ ہوتی‘ جینز کا نیلا پن بہرحال لاہور کی مہربانی تھا۔ آئیے آج اپنے دلچسپ معلومات پیج کے دوستوں کو اس “نیل” کی حیرت انگیز کہانی کے بارے میں بتاتے ہیں۔

    لاہور اکبر اور شاہ جہاں کے دور میں نیل کی دنیا کی سب سے بڑی منڈی ہوتا تھا‘ شہنشاہ اکبر نے لاہور کے قلعے سے ذرا فاصلے پر ہندوستان میں نیل کی پہلی باقاعدہ منڈی قائم کی‘ یہ منڈی اکبر کے نام پر اکبری منڈی کہلائی‘ لاہور کے مضافات میں میلوں تک نیل کے پودے تھے‘ لوگ ان پودوں کا ست نکالتے تھے‘ ست کو بڑی بڑی کڑاہیوں میں ڈال کر پکایا جاتا تھا‘ اس کا پاؤڈر اور ڈلیاں بنائی جاتی تھیں‘ یہ ڈلیاں ٹوکریوں اور بوریوں میں بند ہو کر اکبری منڈی پہنچتی تھیں‘ تاجروں کے ہاتھوں بکتی تھیں‘ گڈوں کے ذریعے ممبئی (پرانا نام بمبئی) اورکولکتہ (پرانا نام کلکتہ) پہنچتی تھیں اور وہاں سے انہیں فرانسیسی اور اطالوی تاجر خریدتے تھے‘ جہازوں میں بھرتے تھے اور یہ نیل بعد ازاں اٹلی کے ساحلی شہر جنوا (یہ شہر جنیوا نہیں ہے) پہنچ جاتا تھا‘ جنوا فرانسیسی شہر نیم کے قریب تھا‘ جنوا اطالوی شہر ہے جبکہ نیم فرانسیسی‘ دونوں قریب قریب واقع ہیں‘ نیم شہر ڈی نیم کہلاتا ہے‘ ڈی نیم میں ہزاروں کھڈیاں تھیں‘ ان کھڈیوں پر موٹا سوتی کپڑا بُنا جاتا تھا‘ یہ کپڑا سرج کہلاتا تھا‘ سرج کپڑا بن کر جنوا پہنچتا تھا‘ جنوا کے انگریز اس کپڑے پر لاہور کا نیل چڑھاتے تھے‘

    کپڑا نیلا ہو جاتا تھا‘ وہ نیلا کپڑا بعد ازاں درزیوں کے پاس پہنچتا تھا‘ درزی اس سے مزدوروں‘ مستریوں اور فیکٹری ورکرز کےلئے پتلونیں سیتے تھے‘ وہ پتلونیں بعد ازاں جنوا شہر کی وجہ سے جینز کہلانے لگیں‘ جینز پتلونیں مشہور ہو گئیں تو ڈی نیم شہر کے تاجروں نے جوش حسد میں اپنے کپڑے کو ڈی نیم کہنا شروع کر دیا‘ یہ ڈی نیم کپڑا آہستہ آہستہ ”ڈینم“ بن گیا‘ جینز اور ڈینم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکٹھے ہوئے اور یہ ڈینم جینز بن گئے۔

    جینز کے تین عناصر تھے‘ ڈی نیم کا کپڑا‘ لاہور کا نیل اور جنوا کے درزی‘ مغلوں کے دور میں اگر لاہور کا نیل نہ ہوتا تو شاید جینز نہ بنتی اور اگر بنتی تو یہ کم از کم نیلی نہ ہوتی‘ جینز کا نیلا پن بہرحال لاہور کی مہربانی تھا‘ آپ آج بھی انگریزی کی پرانی ڈکشنریاں نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو ان ڈکشنریوں میں نیل کا نام لاہوری ملے گا‘ گورے اس زمانے میں نیل کو لاہوری کہتے تھے‘ یہ رنگ بعد ازاں انڈیا کی مناسبت سے انڈیگو بن گیا‘ فرانسیسی‘ اطالوی‘ پرتگالی اور ڈچ نیل کےلئے ہندوستان آتے تھے جبکہ برطانوی افیون کےلئے یہاں آئے اور پھر پورا ہندوستان ہتھیا لیا لیکن یہ بعد کی باتیں ہیں‘

    ہم ابھی اس دور کی بات کر رہے ہیں جب نیل لاہور کی سب سے بڑی تجارت تھا اور یہ لاہوری اور انڈیگو کہلاتاتھا اور یہ ہزاروں میل کا زمینی اور سمندری فاصلہ طے کر کے جنوا پہنچتا تھا‘ جینز کا حصہ بنتا تھا اور پوری دنیا میں پھیل جاتا تھا لیکن پھر لاہور کے لاہوری نیل کو نظر لگ گئی‘ مغلوں نے نیل پر ٹیکس لگا دیا‘ یورپ نے مصنوعی رنگ ایجاد کر لئے اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے فرانسیسیوں‘ اطالویوں اور پرتگالیوں کو مار بھگایا اور یوں نیل کی صنعت زوال پذیر ہوگئی‘

    لاہوری لاہوری نہ رہا مگر لاہور کے شہری آج بھی رنگ باز ہیں‘ لاہوریوں کو یہ خطاب ممبئی اور کولکتہ کے تاجروں نے دیا تھا‘ ہندوستان میں اس وقت فارسی زبان رائج تھی‘ فارسی میں کسی بھی پیشے سے وابستہ لوگوں کو باز کہا جاتا تھا ہے مثلاً بیورو کریٹ کو فارسی میں کاغذ باز کہا جاتا ہے اور کبوتر پالنے والوں کو کبوتر باز‘ اس مناسبت سے رنگ بیچنے والے رنگ باز ہوگئے چنانچہ کولکتہ اور ممبئی کے تاجر نیل کی صنعت سے وابستہ لاہوریوں کو ”رنگ باز“ کہنے لگے‘ مغلوں کے زمانے میں کیونکہ لاہور کی زیادہ تر آبادی نیل کی صنعت سے وابستہ تھی چنانچہ پورا لاہور رنگ باز کہلانے لگا۔

    (جاوید چودھری کے کالم سے ماخوذ)

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *